4 اکتوبر 2017 - 14:24
حراستیں اور جیل بھرو تحریک / پاکستان میں 50 اسیران تاحال سکیورٹی اداروں کی حراست میں

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر شیرازی نے بتایا کہ یہ پوری ملت تشیع پاکستان کا مسئلہ ہے، جس کیلئے سب کو جیل بھرو تحریک میں شامل ہوکر جبری گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے مطالبہ کے بارے میں بتایا کہ قانون نافذ کرنیوالے اور سکیورٹی ادارے ملکی قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسیران کو عدالتوں میں پیش کریں، ان پر فرد جرم عائد کریں، ثبوت لائیں اور قانون کو فیصلہ کرنے دیں کہ انکے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جیل بھرو تحریک میں شامل ہونیکا اعلان کیا ہے، ان میں ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر رابطہ کی سماجی ویب سائٹ فیس بک پر جیل کے پیچھے اپنی تصویر لگا کر پروفائل تصویر لگا کر جبری گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: پاکستان کے مختلف شہروں سے 50 اسیران تاحال سکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں، وہ کس حال میں ہیں اور کس جیل یا کال کوٹھری میں قید ہیں، اس حوالے سے سال گزرے کے باوجود ورثاء کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے پر ملت تشیع پاکستان نے اسیران کی رہائی کی اس مووومنٹ کو ملک بھر میں قومی تحریک کی شکل دی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے متاثرین کے اہلخانہ میں جو مایوسی پائی جاتی تھی، اب امید بن کر ابھر رہی ہے، اس سلسلے میں کراچی میں محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں جید علماء کرام نے احتجاج کیا اور اب جمعہ کو ملک کے اہم مقامات پر جیل بھرو تحریک کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تحریک میں تمام شیعہ تنظیموں کے کارکنان کی جانب سے گرفتاریاں پیش کی جائیں گی۔ تنظیمی کارکنان سمیت گمشدہ جوانوں کے خانوادوں اور علماء کرام نے بھی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرفتاری پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سندھ میں انسانی حقوق کمیشن کے نائب چیئر پرسن اسد بٹ کے مطابق کراچی اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے بیشتر شیعہ نوجوانوں کو عراق سے وطن واپسی پر اٹھایا گیا۔ ان پر شامی جنگ میں شرکت کا شبہ ہے حالانکہ ان کے پاسپورٹس پر شام میں داخلے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جن لوگوں پر شامی جنگ میں شرکت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، ان میں بیشتر کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا کی ویب سائٹس پر غیر مصدقہ دعووں اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر پکڑا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حراست میں لئے گئے بہت سے شیعوں کو بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ اگر ان کے خلاف ذرا سا بھی ثبوت موجود ہوتا تو ان کی قسمت کچھ اور ہوتی۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر شیرازی نے بتایا کہ یہ پوری ملت تشیع پاکستان کا مسئلہ ہے، جس کیلئے سب کو جیل بھرو تحریک میں شامل ہوکر جبری گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے مطالبہ کے بارے میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے ملکی قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسیران کو عدالتوں میں پیش کریں، ان پر فرد جرم عائد کریں، ثبوت لائیں اور قانون کو فیصلہ کرنے دیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے، ان میں ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر رابطہ کی سماجی ویب سائٹ فیس بک پر جیل کے پیچھے اپنی تصویر لگا کر پروفائل تصویر لگا کر جبری گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ٹویٹر پر بھی سماجی کارکنان کی جانب سے بھی اسیران کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے، ٹویٹر پر سلمان حیدر جن کو سال کے شروع میں ریاستی اداروں نے جبری طور پر گرفتار کیا تھا، نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

تحقیق و تحریر: توقیر کھرل

/169